تاریخ کے اوراق سے: 27 دسمبر 2007 – سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا سانحہ شہادت

محمد عمران:راولپنڈی (27 دسمبر 2007) — پاکستان کی تاریخ کے ایک سیاہ باب میں، پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو آج کے دن راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے سے واپسی کے دوران خودکش حملے میں شہید کر دیا گیا۔ یہ حملہ ایک 15 سالہ نوجوان دہشت گرد بلال نے کیا، جس نے پہلے گولیاں چلائیں اور پھر خودکش بم دھماکہ کر دیا، جس سے بے نظیر بھٹو سمیت 23 سے زائد افراد شہید ہو گئے۔بے نظیر بھٹو، جو مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم تھیں، جنوری 2008 کے عام انتخابات کی مہم چلا رہی تھیں۔ وہ آٹھ سال کی جلاوطنی کے بعد اکتوبر 2007 میں پاکستان واپس آئی تھیں اور کراچی میں ان کے استقبالیہ جلوس پر بھی حملہ ہو چکا تھا۔ لیاقت باغ کے جلسے میں ہزاروں کارکنوں سے خطاب کے بعد، وہ بلٹ پروف گاڑی میں سوار تھیں اور سن روف سے باہر نکل کر حامیوں کا ہاتھ ہلا رہی تھیں کہ حملہ آور نے فائرنگ کی اور بم دھماکہ کر دیا۔

حملے کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی، جبکہ پاکستانی طالبان کے سرغنہ بیت اللہ محسود کو بھی ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا۔ تاہم، بے نظیر بھٹو کے حامیوں نے اسے ایک بڑی سازش قرار دیا اور حکومت پر سیکیورٹی ناکافی فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ سانحے کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور فسادات پھوٹ پڑے، جس سے سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ گیا۔بے نظیر بھٹو کی شہادت پاکستان کی جمہوریت اور خواتین کی سیاست کے لیے ناقابل تلافی نقصان تھی۔ وہ دو بار وزیراعظم رہ چکی تھیں اور عوامی حقوق، جمہوریت اور ترقی کی علامت تھیں۔ آج 18 سال گزرنے کے باوجود یہ سانحہ قوم کے دل میں تازہ ہے اور انصاف کی آوازیں اب بھی بلند ہوتی ہیں۔