بائنانس پاکستان ٹوکنائزیشن( Binance Crypto Exchange): 2 بلین ڈالر کی اثاثوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا معاہدہ

Binance Tokenization

محمد عمران:پاکستان نے کرپٹو ایکسچینج بائنانس کے ساتھ ایک اہم معاہدہ نامہ (MoU) پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت بائنانس پاکستان ٹوکنائزیشن پروجیکٹ کے ذریعے 2 بلین ڈالر تک کے سرکاری اثاثوں کی ٹوکنائزیشن (Tokenization) کا سلسلہ شروع ہو گا۔ یہ اقدام پاکستان کی وزارت خزانہ اور بائنانس کی اعلیٰ سطحی بات چیت کا نتیجہ ہے جو کرپٹو اثاثوں کی ریگولیشن اور ڈیجیٹل فنانس کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بائنانس پاکستان ٹوکنائزیشن کے تحت بانڈز، ٹریژری بلز اور کموڈٹی ریزرو جیسے اثاثوں کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کیا جائے گا، جو سرمایہ کاروں کو آسان رسائی فراہم کرے گا اور پاکستان کی معیشت کو عالمی مارکیٹ سے جوڑے گا۔

یہ معاہدہ پاکستان کی طرف سے کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے اور نئی ریگولیٹری فریم ورک کی بنیاد رکھنے کا ایک سنگ میل ہے۔ بائنانس، جو دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج ہے، پاکستان کو مشیر کے طور پر مدد دے گی تاکہ ٹوکنائزیشن کے عمل کو محفوظ اور شفاف بنایا جائے۔ اس پروجیکٹ سے متوقع فوائد میں سرمایہ کاری کی بہاؤ میں اضافہ، مالیاتی شمولیت کی توسیع اور سرکاری اثاثوں کی لیکویڈیٹی میں اضافہ شامل ہیں۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے اس معاہدہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بائنانس کی منتخب ہونے کے عمل پر سوالات اٹھائے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ شفاف طریقہ کار سے ہوا اور پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔

بائنانس پاکستان ٹوکنائزیشن کی اس کوشش سے پاکستان نہ صرف کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہے بلکہ ریئل ورلڈ ایسٹس (RWA) کی ٹوکنائزیشن کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام پاکستان کی جی ڈی پی میں اضافہ کر سکتا ہے اور نوجوان آبادی کو ڈیجیٹل فنانس کی طرف راغب کرے گا۔ بائنانس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شراکت داری پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو تیز کرے گی، جبکہ پاکستان کی ریگولیٹری اتھارٹی SBP اور SECP اس عمل کی نگرانی کریں گی تاکہ کوئی خطرہ نہ ہو۔ یہ ٹوکنائزیشن پروجیکٹ پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرفہرست مقام دلانے کی امید ہے۔