پاکستان کےسابق ISI کے سربراہ کو طاقت کے غلط استعمال پر سزا

Faiz Hameed

محمد عمران:پاکستان کی فوج نے اپنے سابق خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو طاقت کے غلط استعمال، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، سرکاری راز افشا کرنے اور دیگر افراد کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات پر 14 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) نے دیا ہے، جو ملک کی تاریخ میں فوجی افسران کے خلاف ایک اہم مقدمے کی حیثیت رکھتا ہے۔آئی ایس پی آر (انٹر سروسز پبلک ریلیشنز) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، فیض حمید کے خلاف مقدمہ 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کی شقوں کے تحت شروع ہوا تھا اور یہ کارروائی 15 ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہی۔ عدالت نے چار بڑے الزامات ثابت ہونے پر انہیں مجرم قرار دیا: سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا،
آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی جو قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ تھی،
اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال،
افراد کو غیر قانونی نقصان پہنچانا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فیض حمید کی جانب سے سیاسی عدم استحکام اور بے چینی پھیلانے میں ملوث ہونے کی الگ تحقیقات جاری ہیں، جن میں سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام شامل ہے۔ سزا کے خلاف اپیل کا حق محفوظ ہے۔فیض حمید 2019 سے 2021 تک عمران خان کی حکومت میں آئی ایس آئی کے سربراہ رہے، جہاں انہیں سابق وزیراعظم کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ عمران خان کو 2022 میں عدم اعتماد کی تحریک سے ہٹایا گیا تھا، اور وہ اس وقت جیل میں ہیں جہاں ان پر بدعنوانی اور دیگر مقدمات چل رہے ہیں۔ حمید کی گرفتاری 2024 میں سپریم کورٹ کے حکم پر ٹاپ سٹی پراجیکٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران ہوئی تھی، جو ملک میں فوجی افسران کی جوابدہی کی ایک نایاب مثال ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی سول ملٹری ڈائنامکس میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ فوج پر اثرورسوخ رکھنے والے اعلیٰ افسران کے خلاف ایسی کارروائی کم ہی دیکھی جاتی ہے۔ عالمی میڈیا میں اسے پاکستان کی فوج کی اندرونی صفائی کی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔