کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی: 6 جاں بحق، 50 سے زائد لاپتہ

محمد عمران:کراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور تجارتی مرکز گل پلازہ میں ہفتہ کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے شدید آتشزدگی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ آگ گراؤنڈ فلور سے شروع ہوئی اور تیزی سے اوپری منزلوں تک پھیل گئی۔ فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، پاک بحریہ اور دیگر ایمرجنسی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، لیکن آگ کی شدت، دھوئیں کی کثافت اور عمارت میں موجود پلاسٹک، کپڑوں، کھلونوں اور دیگر قابلِ اشتعال اشیا کی وجہ سے 24 گھنٹوں سے زائد وقت تک مکمل قابو نہ پایا جا سکا۔

حکام کے مطابق آگ تیسرے درجے کی تھی۔ اب تک 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔ 20 سے زائد افراد زخمی ہیں جنہیں سول ہسپتال کے برنس وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ 50 سے 60 افراد (بعض رپورٹس میں 80 سے 100 تک) تاحال لاپتہ ہیں، جن میں شاپنگ کرنے والی متعدد فیملیز کے افراد بھی شامل ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے میں تلاشی کا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ منہدم ہو چکا ہے اور باقی حصے بھی خطرناک حد تک کمزور ہیں۔

گل پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں تھیں جو گھریلو سامان، کپڑوں، الیکٹرانکس، کھلونوں اور ہول سیل اشیا کی مارکیٹ کے لیے مشہور تھیں۔ تاجروں کا تخمینہ ہے کہ اس سانحے سے اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ اگر غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کراچی کی تمام کمرشل عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔

پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرین کو فوری امداد کی اپیل کی۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب جب تقریباً 23 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے تو شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔

متاثرہ خاندانوں کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن قائم کر دی گئی ہے۔ ڈی سی ساؤتھ کے مطابق اب تک 16 سے زائد لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے رابطہ کیا ہے۔