ایران نے چین اور روس کی مدد سے اسٹار لنک کے ۸۰ سے ۹۰ فیصد سگنلز جام کر دیے

محمد عمران (ویب ڈیسک): تہران — ۱۲ جنوری ۲۰۲۶ (بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس) — ایران میں حالیہ ملک گیر احتجاجات اور جمعرات کی رات سے مکمل انٹرنیٹ کی معطلی کے بعد، ایرانی حکام نے جدید الیکٹرانک وارفیئر کے آلات استعمال کرتے ہوئے اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس میں بھاری پیمانے پر خلل ڈال دیا ہے۔

ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ماہرین، بشمول گروپ میان کے امیر رشیدی کے مطابق، خلل شروع ہونے کے بعد اسٹار لنک ڈیوائسز میں اوسطاً ۳۰ فیصد پیکٹ لاس ہو رہا تھا، لیکن کچھ علاقوں میں یہ شرح ۸۰ فیصد سے تجاوز کر گئی اور بعض مقامات پر ۹۰ فیصد تک پہنچ گئی۔ اس سطح کا جمنگ عملی طور پر ملک کے بہت سے حصوں میں اسٹار لنک کا مستحکم استعمال ناممکن بنا دیتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ محض عام GPS جامنگ نہیں بلکہ Ku اور Ka بینڈز (جو اسٹار لنک استعمال کرتے ہیں) پر جدید فوجی جمرز کا استعمال ہے۔ متعدد ذرائع، روسی میڈیا رپورٹس اور تجزیہ کاروں کے حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے چین اور روسیہ کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی اور آلات سے فائدہ اٹھایا ہے۔ روسی سسٹمز (جیسے Krasukha طرز کے) اور چینی الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجیز (جو تائیوان جیسے ممکنہ منظرناموں میں اسٹار لنک کے خلاف تیار کی گئیں) مبینہ طور پر ایران میں تعینات کی گئی ہیں۔

ایلان مسک نے پہلے ہی ایرانی صارفین کے لیے اسٹار لنک کو فعال کر دیا تھا تاکہ انٹرنیٹ کی بندش کے دوران رابطہ ممکن رہے، مگر اب یہ کوشش شدید چیلنج کا شکار ہے۔ تخمینہ ہے کہ ایران میں ۴۰ سے ۵۰ ہزار اسٹار لنک ڈیوائسز اسمگلنگ کے ذریعے داخل ہو چکی ہیں اور یہ سروس ۲۰۲۲ کے احتجاجات میں اہم کردار ادا کر چکی تھی۔

ایرانی حکام نے اب تک اس کارروائی کی سرکاری تصدیق نہیں کی، لیکن ماہرین اسے معلومات پر کنٹرول، احتجاجات کی کچلنے اور شہریوں کو دنیا سے کاٹنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے اس شدید سنسرشپ اور رابطے کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ واقعہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے، خاص طور پر آمرانہ حکومتوں کے زیر اثر علاقوں میں۔