ایران نے برکس بحری مشقوں کے لیے روس اور چین کے ساتھ جنوبی افریقہ میں جنگی جہاز تعینات کر دیے

محمد عمران (ویب ڈیسک) : ایران نے برکس ممالک کی مشترکہ بحری مشقوں “موزی تھری” (Mosi III) میں شرکت کے لیے اپنے جنگی جہاز جنوبی افریقہ کے ساحل کی طرف روانہ کر دیے ہیں، جہاں روس اور چین بھی اپنی بحری افواج کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔یہ مشقیں نومبر 2025 میں جنوبی افریقہ کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ہیں، لیکن حال ہی میں تیاریوں کے مرحلے میں ایران، روس، چین، جنوبی افریقہ، ایتھوپیا اور انڈونیشیا کے نمائندوں نے کیپ ٹاؤن میں پلاننگ کانفرنس میں شرکت کی۔ ایرانی نیوی کے کمانڈر کیپٹن حسن مقصودلو نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی بحری افواج ان مشقوں میں مکمل طور پر حصہ لے رہی ہیں۔
یہ مشقیں برکس گروپ (برازیل، روس، انڈیا، چین، جنوبی افریقہ) کے اصل ارکان کے درمیان شروع کی گئی تھیں، جن میں پہلی دو مشقیں (موزی I اور II) 2019 اور 2023 میں ہوئیں۔ اب برکس کی توسیع کے بعد ایران سمیت نئے ارکان بھی شامل ہو رہے ہیں، جو گروپ کی فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا اشارہ ہے۔مشقوں کا مقصد بحری تعاون کو بڑھانا، آپریشنل صلاحیتوں کا تبادلہ، سمندری سلامتی کو یقینی بنانا اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، یہ مشقیں برکس ممالک کے درمیان اقتصادی اور دفاعی روابط کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں۔بعض ذرائع کے مطابق، مشقوں کو جنوبی افریقہ کی جی 20 صدارت کی وجہ سے ملتوی کیا جا سکتا ہے، لیکن ایران کی شرکت برکس کی فوجی یکجہتی کی علامت ہے۔یہ پیش رفت عالمی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں برکس ممالک مغربی اثر و رسوخ کے مقابلے میں اپنی بحری طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔