ایران میں معاشی بحران پر احتجاج تیسرے دن بھی جاری

محمد عمران (ویب ڈیسک): ایران میں ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی اور مہنگائی کی شرح 42 فیصد سے تجاوز کرنے کے بعد شروع ہونے والے احتجاج تیسرے دن بھی جاری ہیں۔ دکانداروں اور تاجروں کی ہڑتال سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب یونیورسٹی طلبہ بھی شامل ہو گئے ہیں، جو آزادی اور حکومت مخالف نعرے لگا رہے ہیں۔احتجاج کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار سے ہوا جہاں ریال کی قدر ایک ڈالر کے مقابلے میں 1.42 ملین تک گر گئی۔ مظاہرین نے دکانیں بند کر کے سڑکوں پر نکل کر حکومت مخالف نعرے لگائے۔ سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور کچھ مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
احتجاج تہران کے علاوہ اصفہان، شیراز، مشہد، ہمدان، زنجان اور قشم تک پھیل گئے۔صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین کے “جائز مطالبات” سننے کا وعدہ کیا ہے اور اندرونی وزیر کو ہدایات دی ہیں کہ احتجاجی رہنماؤں سے بات چیت کی جائے۔ مرکزی بینک کے گورنر محمد رضا فرزن نے استعفیٰ دے دیا ہے اور ان کی جگہ سابق وزیر خزانہ عبدالناصر ہمتی کو تعینات کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج 2022 کے مہسا امینی احتجاج کے بعد سب سے بڑے ہیں اور معاشی مسائل کے ساتھ سیاسی مطالبات بھی شامل ہو گئے ہیں۔ حکومت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر احتجاج فسادات میں تبدیل ہوئے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ کئی ممالک نے احتجاج کی حمایت کی ہے۔



