ایران کا ڈرون طیارہ بردار جہاز کے قریب پہنچا تو امریکہ نے فوری طور پر مار گرایا – کیا جنگ کا آغاز؟

محمد عمران (ویب ڈیسک):امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا جو بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن (USS Abraham Lincoln) کی طرف “جارحانہ” انداز میں پرواز کر رہا تھا۔یہ واقعہ بحیرہ عرب میں پیش آیا، جہاں طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے جنوبی ساحل سے تقریباً 500 میل (800 کلومیٹر) کے فاصلے پر تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق، ایرانی شاہد-139 (Shahed-139) ڈرون نے “غیر واضح ارادوں” کے ساتھ جہاز کی طرف رخ کیا اور امریکی افواج کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات (جیسے انتباہات) کے باوجود پرواز جاری رکھی۔اس کے نتیجے میں جہاز سے اڑنے والے ایک ایف-35 سی (F-35C) لڑاکا طیارے نے خود دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون کو مار گرایا تاکہ بحری جہاز اور اس کے عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔فوج کے مطابق اس واقعے میں کسی امریکی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی سامان کو کوئی نقصان ہوا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبریں گردش میں ہیں، اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔اس سے قبل بھی خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں ایران اور امریکہ کے درمیان اس طرح کے تناؤ کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ کیا یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے یا بڑی کشیدگی کی طرف اشارہ؟



