اسحاق ڈار کا بھارت پر سنگین الزام: دریائے چناب میں پانی کی غیر معمولی تبدیلیاں، ‘پانی کو ہتھیار بنانے’ کی مذمت

محمد عمران:اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت پر دریائے چناب کے بہاؤ میں یکطرفہ طور پر تبدیلیاں لانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور علاقائی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہیں۔اسحاق ڈار نے جمعہ کو اسلام آباد میں سفارتی برادری کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال دریائے چناب میں دو بار غیر معمولی اور اچانک تبدیلیاں دیکھی گئیں: پہلی بار 30 اپریل سے 21 مئی تک اور دوسری بار 7 سے 15 دسمبر تک۔ ان تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے پیشگی اطلاع یا ڈیٹا شیئر کیے بغیر پانی چھوڑا، جو معاہدے کی شرائط کے منافی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات زرعی موسم کے نازک دور میں کیے جا رہے ہیں، جو پاکستان کے کسانوں کی روزی روٹی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو براہ راست خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے بھارتی ہم منصب کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے اور توقع ہے کہ بھارت معاہدے کی ذمہ داریاں نبھائے گا۔نائب وزیراعظم نے مزید الزام لگایا کہ بھارت کشن گنگا اور رتلے جیسے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر سے معاہدے کی تکنیکی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس سے اس کی پانی ذخیرہ کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کی صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے پانی کو روکنے یا موڑنے کی کوئی کوشش کو جنگ کا عمل سمجھا جائے گا۔اسحاق ڈار نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارتی اقدامات کا نوٹس لے اور نئی دہلی کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مجبور کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے، لیکن اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر تناؤ عروج پر ہے، اور پاکستان بھارت سے مسلسل ڈیٹا شیئرنگ اور مشترکہ نگرانی کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے نئی چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔