اسلام آباد-راولپنڈی میں سکیورٹی خدشات: تمام بس اڈے بند، پولیس نے سخت اقدامات کیے

محمد عمران (ویب ڈیسک):اسلام آباد/راولپنڈی (23 فروری 2026) — اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج میں پولیس نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر تمام بس اڈوں کو فوری طور پر بند کرا دیا ہے۔ یہ اقدام آج صبح سے نافذ العمل ہے اور اس کی وجہ علاقائی اور قومی سطح پر ممکنہ خطرات کو روکنا بتائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق فیض آباد، جو جڑواں شہروں کو ملانے والا اہم ترین مقام ہے، میں متعدد بس اڈے موجود ہیں جو انٹر سٹی اور لوکل ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ان اڈوں کو کنٹینرز، رکاوٹوں اور دیگر حفاظتی تدابیر سے سیل کر دیا ہے۔ مسافروں اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو متبادل راستوں یا اڈوں کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سیکیورٹی خدشات کی نوعیت
حکام نے تفصیلات دینے سے گریز کیا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس اور پوسٹس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ اقدام حالیہ علاقائی کشیدگی، ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں یا دیگر انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ فیض آباد ماضی میں بھی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے دھرنوں اور مظاہروں کا مرکز رہا ہے، جہاں اس مقام کو اکثر کنٹینرز سے بند کیا جاتا ہے۔عوام پر اثرات راولپنڈی سے اسلام آباد آنے جانے والے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
میٹرو بس سروس اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ٹریفک پولیس نے متبادل راستوں جیسے نائنتھ ایونیو، راول روڈ، فقیر ایپی روڈ، سرینگر ہائی وے اور کھنہ پل کی استعمال کی تجویز دی ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں اور صورتحال کی تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری ذرائع پر نظر رکھیں۔
سرکاری ردعمل
اب تک اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری انتظامیہ، راولپنڈی پولیس یا وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر متعدد صارفین اور صحافیوں نے تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری اور بس اڈوں کی بندش واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔یہ پابندی کب تک جاری رہے گی، اس بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ اگر صورتحال معمول پر آئی تو اڈے دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔ شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور ٹریفک پولیس کے مشوروں پر عمل کریں تاکہ کسی قسم کی تکلیف سے بچا جا سکے۔



