جیفری ایپسٹائن فائلز: امریکی محکمہ انصاف نے لاکھوں دستاویزات جاری کیں، نئی انکشافات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

محمد عمران (ویب ڈیسک) :واشنگٹن (2 فروری 2026) — بدنام زمانہ امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹائن سے متعلق سب سے بڑی دستاویزات کی ریلیز ہوئی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف (DOJ) نے جمعہ کو 35 لاکھ سے زائد صفحات، 2 ہزار سے زیادہ ویڈیوز اور تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ “Epstein Files Transparency Act” کے تحت سب سے بڑی اور آخری بڑی ریلیز ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کیے تھے۔یہ دستاویزات ایپسٹائن کی تحقیقات، اس کی موت (2019 میں جیل میں خودکشی)، غزالین میکسویل (اس کی ساتھی جو 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہے) اور اس کے طاقتور دوستوں کے بارے میں نئی تفصیلات پیش کر رہی ہیں۔اہم انکشافات اور ردعمل:دستاویزات میں سابق امریکی صدور ڈونلڈ ٹرمپ اور بل کلنٹن، ارب پتی ایلون مسک، بل گیٹس، سابق برطانوی شہزادہ اینڈریو، اور دیگر مشہور شخصیات کا ذکر ہے۔ ان میں ای میلز، تصاویر اور رابطوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
نئی تصاویر میں شہزادہ اینڈریو کی متنازع تصاویر سامنے آئی ہیں، جن میں ایک خاتون کے ساتھ پوزیشن دکھائی گئی ہے۔ برطانیہ میں اس پر دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ ہو رہا ہے۔
ایک ای میل میں ایپسٹائن نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے کا ذکر کیا ہے، جس پر بھارتی اپوزیشن کانگریس نے شدید تنقید کی ہے۔ کانگریس نے اسے “شرمناک” قرار دیا اور مودی سے وضاحت مانگی ہے۔ بھارتی حکومت نے اسے “فضول خیالات” قرار دے کر مسترد کر دیا۔
دستاویزات میں ننگی تصاویر بھی شامل ہیں جنہیں متاثرہ خواتین (بعض نابالغ) کی شناخت کے بغیر جاری کیا گیا، جس پر متاثرین اور انسانی حقوق کے گروپس نے شدید احتجاج کیا ہے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانچ نے سی این این اور اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ایپسٹائن کیس کی تحقیقات “ختم” ہو چکی ہیں اور نئی فرد جرم کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ “خوفناک تصاویر اور ای میلز ہونے کے باوجود مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت نہیں”۔
سیاسی اور عالمی اثرات:سلوواکیہ میں ایک اعلیٰ افسر نے ایپسٹائن سے ملاقات کی تصاویر کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا۔
برطانیہ میں لیبر پارٹی کے قریبی رہنما پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
کانگریس کے کچھ ارکان نے DOJ پر الزام لگایا ہے کہ کچھ دستاویزات کو سیاسی وجوہات سے روکا یا ریڈیکٹ کیا گیا ہے۔
یہ ریلیز دنیا بھر میں بحث کا باعث بن گئی ہے، کیونکہ یہ طاقتور شخصیات کے ایپسٹائن سے روابط کو مزید واضح کر رہی ہے۔ تاہم، DOJ کا موقف ہے کہ یہ سب سے مکمل شفافیت ہے اور اب کوئی نئی قانونی کارروائی نہیں ہو گی۔متاثرین کے حقوق کے گروپس کا مطالبہ ہے کہ تمام متاثرین کو انصاف ملے اور مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں۔



