کراچی میں بڑا دہشت گردانہ منصوبہ ناکام، سی ٹی ڈی نے 2000 کلو سے زائد دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا

کراچی (6 جنوری 2026): سندھ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک بڑی دہشت گردانہ کارروائی ناکام بنا دی ہے۔ آپریشن کے دوران کراچی کے علاقے رئیس گوٹھ میں چھاپہ مار کر تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ 2000 کلو گرام سے زائد دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) غلام اظفر محسر نے اے آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لارک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی میں ایک مازدا ٹرک برآمد کیا گیا جو دھماکہ خیز مواد سے بھرا ہوا تھا۔ برآمد ہونے والے سامان میں 30 سے زائد بڑے ڈرم، 5 گیس سلنڈر، ڈیٹونیٹرز اور دیگر دھماکہ خیز اشیاء شامل ہیں۔ یہ مواد مکمل طور پر استعمال کے لیے تیار تھا اور کراچی میں اہم مقامات پر حملوں کے لیے لایا گیا تھا۔ڈی آئی جی محسر کے مطابق، آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا جبکہ 3 سے 4 دیگر ملزمان فرار ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔ گرفتار ملزم کی نشاندہی پر 6 مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن سے مزید دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ (یا گنگو)، اور حمدان عرف فرید کے طور پر کی گئی ہے۔

ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ یہ ملزمان پابندی شدہ تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کمانڈر بشیر زیب نیٹ ورک اور اس کی ماجد بریگیڈ سے وابستہ ہیں۔ حملے کی منصوبہ بندی ملک سے باہر کی گئی تھی، جبکہ سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ دھماکہ خیز مواد کا کچھ حصہ کمرشل گریڈ کا ہے جبکہ کچھ بلوچستان کے پہاڑی علاقوں سے اسمگل کیا گیا۔سی ٹی ڈی افسران نے اس کارروائی کو تمام اداروں کی مشترکہ کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے کراچی کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا گیا۔ برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے ہب کے علاقے میں منتقل کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔یاد رہے کہ یہ کارروائی ملک بھر میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں کی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی اور خفیہ ادارے مزید کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں-