قازقستان کے صدر توکایف پاکستان پہنچے: کیا یہ دورہ خطے کی جیو اکنامکس بدل دے گا؟

محمد عمران (ویب ڈیسک)اسلام آباد: قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ یہ ان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔صدر توکایف کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی پاکستان ایئر فورس کے لڑاکا طیاروں نے اس کی حفاظت کی اور نور خان ایئر بیس راولپنڈی پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خود ان کا خیرمقدم کیا۔ استقبال کے دوران 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جو مہمان صدر کے لیے اعلیٰ ترین پروٹوکول کی عکاسی کرتی ہے۔یہ دورہ 3 سے 4 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔ اس دوران صدر توکایف پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقاتیں کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطہ کاری، نقل و حمل، علاقائی استحکام اور عوامی روابط کو مزید مستحکم کرنے پر بات چیت ہوگی۔دورے کے اہم نکات میں پاکستان-قازقستان بزنس فورم سے صدر توکایف کا خطاب بھی شامل ہے، جہاں دونوں ممالک کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان نئے معاہدوں اور شراکت داریوں کا امکان ہے۔قازقستان پاکستان کا وسطی ایشیا میں سب سے بڑا برآمدی منڈی ہے، اور یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ یوریشیائی اقتصادی راہداریوں اور علاقائی امن و استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔کیا یہ دورہ پاکستان کی مرکزی ایشیائی پالیسی کو نئی جہت دے گا؟ کیا نئے معاہدے خطے کی معیشت کو تبدیل کر دیں گے؟ یہ سوالات اب سب کے ذہن میں گھوم رہے ہیں۔



