لاہور میں بسنت کا رنگین تہوار اختتام پذیر: آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے جگمگایا

محمد عمران (ویب ڈیسک):لاہور میں بسنت کا رنگین میلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ تین روزہ (6 سے 8 فروری) فیسٹیول، جسے بعض علاقوں میں توسیع دی گئی، آج 9 فروری کو مکمل طور پر ختم ہوا۔ یہ تہوار 19 سال بعد بحال ہوا تھا اور اسے بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا رہا، ہزاروں لوگ چھتوں پر جمع ہوئے، جوش و خروش سے پیچ لڑائے گئے اور “بو کاٹا” کی آوازیں گونجتی رہیں۔ شہر کی گلیاں، چھتیں اور پارک تہوار کی رونق سے جگمگا اٹھے۔ غیر ملکی مہمان، مشہور شخصیات اور سیاح بھی شامل ہوئے، جنہوں نے لاہور کی ثقافتی خوبصورتی کو قریب سے دیکھا۔حفاظتی اقدامات سخت تھے: ممنوعہ دھاتی ڈور کا استعمال نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا، نہ ہی تیز دھار ڈور یا فائرنگ سے کوئی سنگین واقعہ رپورٹ ہوا۔ بجلی کے ٹرانسفارمر بھی محفوظ رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہوریوں کے نظم و ضبط اور ایس او پیز پر عمل کی بہت تعریف کی۔ انہوں نے کہا:”شاباش لاہور! خوشی ہے کہ آپ نے ہمارا اعتماد کا خیال رکھا۔ سیف بسنت کا خوبصورت تصور مکمل طور پر اپنایا گیا۔”
انہوں نے عوامی جوش دیکھ کر تقریبات کا وقت صبح 5 بجے تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا، جو آج تک جاری رہا۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ لاہور کے بعد دوسرے شہروں میں بھی “سیف بسنت” کا ماڈل اپنایا جائے گا۔یہ تہوار حالیہ سیکیورٹی تناؤ اور آلودگی کے باوجود ثقافتی خوشی اور معاشی سرگرمی کا باعث بنا۔ لاہور کے ہوٹل فل ہو گئے، کاروبار میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا (پتنگ، ڈور، کھانے پینے کی اشیا وغیرہ سے 4 سے 6 ارب روپے تک کا تخمینہ)۔اب فیسٹیول ختم ہونے کے بعد پتنگ بازی پر پابندی دوبارہ نافذ ہو گئی ہے۔ لاہور نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ روایات زندہ رہ سکتی ہیں جب ذمہ داری اور حفاظت کو ترجیح دی جائے۔خوشیوں بھرا یہ رنگین میلہ سب کے لیے یادگار بن گیا!