پاکستان میں سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ ختم، نیٹ بلنگ کا نیا نظام نافذ

محمد عمران (ویب ڈیسک):اسلام آباد (10 فروری 2026) — نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے ملک بھر میں سولر، ونڈ اور بائیو گیس پر مبنی ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن کے لیے پرانے نیٹ میٹرنگ نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔نیپرا کی جانب سے جاری کردہ پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے تحت اب سولر صارفین (پروزیومرز) کی اضافی پیدا کردہ بجلی کو نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس (تقریباً 11 روپے فی یونٹ) پر قومی گرڈ کو فروخت کیا جائے گا، جبکہ گرڈ سے لی جانے والی بجلی پر عام صارفین والا ٹیرف (جو بعض اوقات 40 روپے فی یونٹ سے بھی زیادہ ہوتا ہے) ادا کرنا پڑے گا۔یہ تبدیلی پرانے ون ٹو ون (یونٹ کے بدلے یونٹ) ایڈجسٹمنٹ ماڈل کو ختم کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے پہلے سولر صارفین اپنے بل کو صفر یا بہت کم کر سکتے تھے۔ اب اضافی یونٹس کی قیمت کم ملنے سے سولر سسٹم لگانے والوں کی ماہانہ بچت میں نمایاں کمی آئے گی اور نئے صارفین کے لیے سولر کی معاشی فزیبلٹی کم ہو جائے گی۔اہم تبدیلیاں:پرانے صارفین بھی فوری طور پر نیٹ بلنگ پر منتقل ہو جائیں گے (اگرچہ کچھ ذرائع کے مطابق ان کے پرانے ریٹس کچھ عرصہ جاری رہ سکتے ہیں)۔
نئے صارفین کے لیے معاہدے کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے (تجدید کے ساتھ مزید 5 سال ممکن)۔
سسٹم کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت 1 میگاواٹ تک محدود ہے اور صارف کے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
اضافی بجلی کی ادائیگی ماہانہ بنیاد پر ہوگی (پہلے تین ماہ تک کریڈٹ ممکن تھا)۔

نیپرا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام گرڈ کی استحکام، لائن لاسز کم کرنے اور نان سولر صارفین پر بوجھ کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم سیاسی رہنماؤں، ماہرین اور سولر انڈسٹری کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ روف ٹاپ سولر کے فروغ کو روکے گا، ماحولیاتی اہداف متاثر ہوں گے اور صارفین کی سرمایہ کاری ضائع ہو سکتی ہے۔یہ تبدیلی فروری 2026 سے فوری نافذ العمل ہے اور 2015 کے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔سولر صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ ڈسکوز یا نیپرا سے رابطہ کر کے اپنے کنٹریکٹ کی تفصیلات چیک کریں۔