پاکستان۔افغانستان امن مذاکرات ریاض میں ناکام، کشیدگی برقرار

محمد عمران، اسلام آبادسعودی عرب کی ثالثی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ریاض میں ہونے والے دو روزہ امن مذاکرات اتوار کی شام بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔ پاکستانی وفد نے ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے، افغان شہریوں کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام اور ٹی ٹی پی قیادت کی حوالگی یا بے دخلی کے واضح مطالبات پر زور دیا، مگر طالبان نے ان مطالبات کو “افغانستان کی خودمختاری پر حملہ” قرار دے کر مسترد کر دیا۔ دونوں فریقوں نے موجودہ جنگ بندی برقرار رکھنے کا اعادہ کیا، لیکن سرحدی دہشت گردی کے بنیادی مسئلے پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ناکامی کے فوراً بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ پاکستانی انٹیلی جنس اور فوجی حلقوں کے بعض عناصر نے مذاکرات سبوتاژ کیے، جبکہ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ جب تک دہشت گردی کا خاتمہ یقینی نہیں، تجارت اور سرحدی آمدورفت بحال نہیں کی جا سکتی۔ گزشتہ چند ہفتوں میں خیبرپختونخوا میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافے اور نومبر میں پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد تعلقات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں؛ تجزیہ کاروں کے مطابق ریاض ناکامی سے سرحد پر نئے تصادم کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔



