پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی بڑی کامیابی: داعش خراسان کے ترجمان کی گرفتاری

محمد عمران:اسلام آباد (نیوز رپورٹ) — پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے دہشت گرد تنظیم اسلامی اسٹیٹ خراسان پروونس (داعش خراسان) کو شدید دھچکا پہنچاتے ہوئے اس کے سرکاری ترجمان سلطان عزیز اعظام کو گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گرفتاری مئی 2025 میں پاکستان افغانستان سرحد کے قریب ایک خفیہ آپریشن کے دوران عمل میں آئی، جب سلطان عزیز اعظام افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔سلطان عزیز اعظام، جو افغانستان کے صوبے ننگرہار سے تعلق رکھتے ہیں، داعش خراسان کے میڈیا ونگ الاعظائم فاؤنڈیشن کے بانی بھی ہیں۔ یہ تنظیم داعش کی پروپیگنڈا، بھرتیوں اور تشہیری سرگرمیوں کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد داعش خراسان کی متعدد پروپیگنڈا چینلز اور میڈیا پلیٹ فارمز، بشمول “وائس آف خراسان”، معطل ہو گئے ہیں، جس سے تنظیم کی عالمی سطح پر تشہیری مہم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔امریکہ نے سلطان عزیز اعظام کو 2021 میں عالمی دہشت گرد قرار دے کر ان کی گرفتاری کی خواہش ظاہر کی تھی۔
اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں بھی پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کی تعریف کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایسی گرفتاریوں سے داعش خراسان کی تنظیمی ساخت کمزور ہوئی ہے، متعدد منصوبہ بند حملے ناکام بنائے گئے ہیں اور تنظیم کے جنگجوؤں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری علاقائی امن کے لیے اہم پیش رفت ہے، کیونکہ داعش خراسان حالیہ برسوں میں پاکستان اور افغانستان میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ پاکستانی حکام نے ابھی تک سرکاری طور پر اس گرفتاری کی تصدیق نہیں کی، تاہم سرکاری میڈیا اور ذرائع اسے انٹیلیجنس اداروں کی ایک اور کامیابی قرار دے رہے ہیں۔یہ کارروائی پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مسلسل جدوجہد کا حصہ ہے، جو علاقے میں استحکام کے لیے ضروری سمجھی جا رہی ہے۔



