پاکستان نے اسرائیل کی سومالی لینڈ کی شناخت کو مسترد کرتے ہوئے سومالیہ کی خودمختاری کمزور کرنے کی کوششوں کی مذمت کی

محمد عمران :اسلام آباد (28 دسمبر 2025) – پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے خودمختار علاقے سومالی لینڈ کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور سومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان سومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس سلسلے میں اسرائیل کی جانب سے سومالی لینڈ علاقے کی آزادی تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کرتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں جو نہ صرف ہمسایہ ملک سومالیہ بلکہ پورے خطے کی امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کو مسترد کرے اور اسرائیل کو خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے سے روکے۔

پاکستان نے سومالیہ کی وفاقی جمہوریہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے اور ملک میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تمام کوششوں کی تائید کی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے 26 دسمبر کو سومالی لینڈ کو آزاد ملک تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جو ابراہیم اکورڈز کی روح کے مطابق ہے۔ سومالی لینڈ نے 1991 میں سومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا لیکن اب تک کسی ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ سومالیہ کی حکومت نے اس اقدام کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔افریقن یونین، عرب لیگ اور متعدد اسلامی ممالک نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ پاکستان سمیت 21 اسلامی اور عرب ممالک اور او آئی سی نے مشترکہ بیان میں اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا۔