پاکستان ترکیہ توانائی معاہدے 2025: تیل و گیس کی تلاش کے لیے 5 اہم MoUs پر دستخط

محمد عمران:اسلام آباد – 3 دسمبر 2025ء
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے پاکستان ترکیہ توانائی معاہدے 2025 کے تحت آف شور اور آن شور تیل و گیس کی تلاش، ایل این جی سپلائی، پائپ لائن نیٹ ورک کی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے پانچ بڑے معاہدوں (MoUs) پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدے دونوں برادر ممالک کے درمیان معاشی و اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے۔پاکستان ترکیہ توانائی معاہدے 2025 کی تفصیلی جھلکیاںعرب سمندر میں مشترکہ آف شور ایکسپلوریشن
ترکیہ کی قومی کمپنی TPAO اور پاکستان کی OGDCL نے عرب سمندر کے دو نئے بلاکس (2025-A اور 2025-B) میں مشترکہ سیسمک سروے اور ڈرلنگ کا معاہدہ کیا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ان بلاکس میں 3 سے 5 ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر ہو سکتے ہیں۔
بلوچستان اور پنجاب میں آن شور پروڈکشن شیئرنگ
ترک کمپنی Zorlu Energy اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) نے پنجاب کے ضلع راجن پور اور بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں نئے گیس فیلڈز کی تلاش و پیداوار کے لیے 60:40 کے تناسب سے معاہدہ کیا ہے۔ اس منصوبے سے اگلے 3 سال میں 500 ملین کیوبک فٹ یومیہ اضافی گیس پیدا ہونے کی توقع ہے۔
ایل این جی سپلائی اور نیا فلوٹنگ ٹرمینل
ترکیہ کی سرکاری کمپنی BOTAŞ پاکستان کو 2026–2030 کے دوران ہر سال 2.5 ملین ٹن اضافی مائع گیس (LNG) فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ پورٹ قاسم پر تیسرا فلوٹنگ اسٹوریج اینڈ ری گیسیفیکیشن یونٹ (FSRU) لگانے میں 70 فیصد سرمایہ کاری ترکیہ کرے گا۔ اس سے پاکستان کی ایل این جی درآمد کی صلاحیت 50 فیصد بڑھ جائے گی۔
گیس پائپ لائن نیٹ ورک کی توسیع
دونوں ممالک نے مل کر موجودہ سفید پائپ لائن سسٹم کو 5,000 کلومیٹر تک بڑھانے اور لاہور، فیصل آباد، ملتان اور کوئٹہ میں زیرِ زمین گیس اسٹوریج سہولیات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کی مالیت 1.8 ارب ڈالر ہے جس میں سے 60 فیصد فنڈنگ ترک ایگزیم بینک فراہم کرے گا۔
ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور انسانی وسائل کی تربیت
ترکیہ کا سائنسی ادارہ TÜBİTAK اور پاکستان کا ہائیڈرو کاربن ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ (HDIP) مصنوعی ذہانت پر مبنی سیسمک ڈیٹا انٹرپریٹیشن، کاربن کیپچر ٹیکنالوجی اور جدید ڈرلنگ کے شعبوں میں مشترکہ ریسرچ کریں گے۔ اس کے علاوہ 500 پاکستانی انجینئرز اور جیالوجسٹس کو ترکیہ میں 2 سالہ تربیتی پروگرام کے تحت تربیت دی جائے گی۔
معاشی و اسٹریٹجک فوائداگلے 5 سال میں ترکیہ سے کم از کم 2.2 ارب ڈالر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI)
گیس کی مقامی پیداوار میں 18–22 فیصد اضافہ
ایل این جی درآمد کی لاگت میں 10–14 فیصد کمی
بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں 25,000 سے زائد نئے روزگار
پاکستان کی توانائی کی خود انحصاری کی طرف ایک بڑا قدم
وزیرِ پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق مالک نے کہا:
“یہ پاکستان ترکیہ توانائی معاہدے 2025 ہمارے بھائی ملک ترکیہ کے ساتھ نہ صرف توانائی بلکہ معاشی و دفاعی تعلقات کی نئی بنیاد رکھیں گے۔”ترکیہ کے وزیرِ توانائی الپ ارسلان بیرقدار نے کہا:
“پاکستان ہمارا سٹریٹجک پارٹنر ہے۔ ہم اپنا تجربہ اور ٹیکنالوجی پاکستان کے توانائی کے شعبے کو خود کفیل بنانے کے لیے وقف کر رہے ہیں۔”توقع ہے کہ ان معاہدوں پر عملی کام جنوری 2026 سے شروع ہو جائے گا اور 2030 تک پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مقامی وسائل اور ترکیہ کی مدد سے پورا کیا جائے گا۔



