پی آئی اے کی نجکاری: عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی جیت لی

محمد عمران:اسلام آباد – 24 دسمبر 2025پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی طویل التوا کی نجکاری آج مکمل ہو گئی جب عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں کنسورشیم نے قومی ایئرلائن کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں خرید لیے۔ یہ پاکستان کی تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بڑی نجکاری ہے۔نجکاری کمیشن کی جانب سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کھلی نیلامی میں تین بولی دہندگان نے حصہ لیا۔ پہلے راؤنڈ میں عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے، لکی سیمنٹ کنسورشیم نے 101.5 ارب روپے جبکہ پرائیویٹ ایئرلائن ایئر بلیو نے 95 ملین ڈالر (تقریباً 26.5 ارب روپے) کی بولی دی جو ریزرو پرائس سے کم تھی۔دوسرے راؤنڈ میں شدید مقابلے کے بعد عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی لگا کر کامیابی حاصل کی، جبکہ لکی سیمنٹ کنسورشیم کی بولی 134 ارب روپے رہی۔عارف حبیب کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز پرائیویٹ لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔حکومت نے پی آئی اے کے قرضوں کا بڑا حصہ (654 ارب روپے) اپنے ذمے لے لیا ہے اور ایئرلائن نے دو دہائیوں بعد پہلی بار ٹیکس سے پہلے منافع کمایا ہے۔ یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی پانچ سالہ پابندی اٹھا لی ہے جس سے منافع بخش روٹس دوبارہ کھل گئے ہیں۔نجکاری کے معاہدے کے مطابق:

1-(135) ارب روپے میں سے 92.5 فیصد رقم پی آئی اے کی بحالی اور توسیع میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔
1-صرف 7.5 فیصد (تقریباً 10.12 ارب روپے) حکومت کو نقد ملے گی۔
2-کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصد حصص 15 فیصد پریمیم پر خریدنے کا آپشن 90 سے 120 دنوں میں دیا جائے گا۔
3-ملازمین کو ایک سال تک نوکری کا تحفظ حاصل رہے گا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل مکمل طور پر شفاف رہا اور تمام بولی دہندگان پاکستانی ہیں جو ملک کی سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے خوش آئند ہے۔مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ یہ نجکاری پی آئی اے کو دوبارہ عالمی سطح پر کامیاب بنانے کی طرف اہم قدم ہے۔پی آئی اے کی نجکاری آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کا اہم حصہ ہے جس کا مقصد خسارے والے سرکاری اداروں سے مالی بوجھ کم کرنا ہے۔کنسورشیم کے نمائندوں نے کہا کہ وہ پی آئی اے کو دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شامل کرنے کے لیے سخت محنت کریں گے۔یہ خبر ملک بھر میں ٹی وی پر براہ راست نشر کی گئی اور اسے معاشی اصلاحات کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔