معاشی میدان میں مثبت پیش رفت: اسٹیٹ بینک ن(SBP)ے پالیسی ریٹ میں کمی کا اعلان کر دیا

محمد عمران: اسٹیٹ بینک آف پاکستان(SBP) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے غیر متوقع طور پر پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں شرح سود 11 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ نئی شرح 16 دسمبر 2025 سے نافذ العمل ہو جائے گی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ اقدام بہتر ہوتے میکرو اکنامک اشاریوں، مہنگائی پر قابو اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ اس سے مالیاتی حالات میں نرمی آئے گی اور کاروباری سرگرمیوں کو تحریک ملے گی۔ یہ مئی 2025 کے بعد پہلی بار پالیسی ریٹ میں کمی ہے، جبکہ اس سے قبل مسلسل چار جائزوں میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھی گئی تھی۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروباری برادری اور عوام کے لیے مثبت قدم ہے اور حکومت کی معاشی ٹیم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
آئی ایم ایف سے نئی قسط کی منظوری:
دوسری جانب، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے حال ہی میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دی تھی۔ یہ رقم توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت جاری کی گئی، جس سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا اور معاشی استحکام کو مزید تقویت ملی۔یہ دونوں پیش رفت پاکستان کی معیشت کے لیے اچھی خبریں ہیں، جو مہنگائی میں کمی، بیرونی توازن میں بہتری اور ترقی کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو بڑھاوا دیں گے۔



