سعودی عرب کی یمن کی بندرگاہ پر بمباری: متحدہ عرب امارات سے ہتھیاروں کی کھیپ کو نشانہ بنایا

محمد عمران (ویب ڈیسک):ریاض/مکلا، 30 دسمبر 2025 – سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن کی جنوبی بندرگاہ مکلا پر ہوائی حملہ کیا، جس میں متحدہ عرب امارات سے آئی ہوئی ہتھیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ یہ ہتھیار جنوبی یمن کی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے لیے تھے، جو متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، دو جہاز فجیرہ کی بندرگاہ سے مکلا پہنچے تھے، جہاں سے بڑی مقدار میں ہتھیار اور فوجی گاڑیاں اتاری گئیں۔ سعودی فوج نے کہا کہ یہ حملہ محدود تھا اور رات کے وقت کیا گیا تاکہ کوئی ضمنی نقصان نہ ہو۔ حملے میں کوئی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔
یہ حملہ یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات جنوبی علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ حال ہی میں ایس ٹی سی نے حضرموت صوبے پر قبضہ کر لیا، جس پر سعودی عرب نے شدید اعتراض کیا۔یمن کی صدارتی کونسل نے حملے کے بعد ہنگامی حالت نافذ کر دی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا۔ ساتھ ہی، اماراتی فورسز کو 24 گھنٹوں میں یمن چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔متحدہ عرب امارات نے ابھی تک اس حملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ خلیجی اتحاد کو مزید کمزور کر سکتا ہے اور یمن کی دہائی بھر کی جنگ میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔یہ پیشرفت حوثی باغیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو اجاگر کرتی ہے۔



