بنگلہ دیش کے نوجوان رہنما کی نمازِ جنازہ: لوگوں کا سمندر پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے جمع

محمد عمران (ویب ڈیسک): بنگلہ دیش کے نوجوان رہنما اور 2024 کی طلبہ تحریک کے سرکردہ لیڈر شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ آج نیشنل پارلیمنٹ بلڈنگ کے ساؤتھ پلازہ میں ادا کی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں سوگواروں کا ایک سمندر پارلیمنٹ کے احاطے میں جمع ہوا، جو مرحوم کی عظیم خدمات اور ان کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے آیا تھا۔عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “عثمان ہادی ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے اور جب تک بنگلہ دیش موجود ہے، وہ بنگلہ دیشیوں کے دلوں میں رہیں گے۔ انہوں نے مرحوم کی عاجزی، تواضع اور لوگوں سے جڑنے کی صلاحیت کی تعریف کی اور وعدہ کیا کہ ان کے اصولوں پر ملک کی سیاسی ثقافت کو بلند کیا جائے گا۔
شریف عثمان ہادی، جو انقلاب منچ کے ترجمان اور ڈھاکہ-8 سے آئندہ انتخابات کے امیدوار تھے، 12 دسمبر کو ڈھاکہ میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئے تھے۔ سنگاپور میں علاج کے دوران وہ انتقال کر گئے۔ ان کی موت کے بعد ملک بھر میں احتجاج اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے، مگر آج کا دن نسبتاً پرامن رہا اور قومی سوگ منایا گیا۔ قومی پرچم سرنگوں رکھے گئے اور مساجد سمیت عبادت گاہوں میں خصوصی دعائیں کی گئیں۔خاندان کی خواہش پر مرحوم کو قومی شاعر قاضی نذر الاسلام کے مقبرے کے پہلو میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ سخت سیکیورٹی انتظامات کے باوجود لاکھوں افراد نے جنازے میں شرکت کی اور نعرے لگائے کہ “ہادی کا خون ضائع نہیں جائے گا”۔



