ٹرمپ نے برطانیہ کو چین کے ساتھ تعلقات پر خبردار کیا

محمد عمران (ویب ڈیسک): بیجنگ/واشنگٹن (30 جنوری 2026) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو چین کے ساتھ کاروباری اور معاشی تعلقات بڑھانے سے خبردار کر دیا ہے، جبکہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بیجنگ میں اپنے دورے کے دوران چین کے ساتھ تعلقات کو “ری سیٹ” کرنے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی تعریف کی۔ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک تقریب (فلم “میلانیا” کی پریمئیر) کے موقع پر صحافیوں کے سوال پر کہا کہ “برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا بہت خطرناک ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کینیڈا کے لیے بھی اس سے زیادہ خطرناک ہے۔” ٹرمپ نے اس بیان میں کوئی مزید تفصیلات نہیں دیں، لیکن یہ تبصرہ برطانوی وزیراعظم کے چین دورے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔دوسری جانب، کیئر اسٹارمر نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے تین گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد برطانیہ-چین بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی “بہت گرم جوش” ملاقاتیں “حقیقی پیش رفت” کا باعث بنی ہیں۔ اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ چین کے ساتھ “زیادہ نفیس” اور متوازن تعلقات چاہتا ہے۔دورے کے اہم نتائج میں شامل ہیں:برطانوی شہریوں کے لیے چین میں 30 دن تک ویزا فری سفر کی سہولت۔
سکاچ وہسکی پر چینی ٹیرف میں کمی۔
معاشی سرمایہ کاری اور تجارت میں بہتری کے معاہدے، جن میں AstraZeneca کی بڑی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
اسٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ امریکہ اور چین کے درمیان انتخاب نہیں کرے گا، اور امریکہ کے ساتھ تاریخی اتحاد برقرار رہے گا۔ انہوں نے ستمبر میں ٹرمپ کے برطانیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے 150 ارب پاؤنڈ کی امریکی سرمایہ کاری کا ذکر کیا۔یہ واقعہ مغربی اتحادیوں کے درمیان چین پالیسی پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ٹرمپ کی انتظامیہ چین کے ساتھ سخت موقف اپنا رہی ہے، جبکہ یورپی رہنما معاشی فوائد کے لیے بیجنگ کے ساتھ رابطے بڑھا رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا یہ انتباہ برطانیہ-امریکہ تعلقات پر ممکنہ اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی دوسری مدت میں ٹیرف اور تجارتی پالیسیاں سخت ہو رہی ہیں۔



