سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن تنازع پر شدید کشیدگی

ابوظہبی/ریاض: متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان یمن کے معاملے پر کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے جب سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر مکالا پر فضائی حملہ کیا، جسے ریاض نے امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروپ جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کو اسلحہ کی فراہمی قرار دیا۔ اس حملے کے بعد امارات نے یمن سے اپنی باقی ماندہ انسداد دہشت گردی فورسز کو رضاکارانہ طور پر واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔یمن کی سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل نے اماراتی فورسز کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا تھا، جس پر سعودی عرب نے بھی حمایت کا اظہار کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک کی قومی سلامتی “ریڈ لائن” ہے اور کسی بھی خطرے کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب امارات نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ شپمنٹ ہتھیاروں پر مشتمل نہیں تھی اور سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطح پر کوآرڈینیشن موجود تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ کشیدگی دونوں ممالک کے یمن میں مختلف گروپوں کی حمایت سے پیدا ہوئی ہے۔ سعودی عرب حوثی باغیوں کے خلاف مرکزی حکومت کی حمایت کر رہا ہے جبکہ امارات جنوبی علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، جنہوں نے حال ہی میں حضرموت اور المہرہ صوبوں پر قبضہ کر لیا۔ یہ تنازع اوپیک پلس میں تیل کی پیداوار پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔خلیجی ممالک قطر، کویت اور بحرین نے دونوں فریقوں سے مذاکرات کی اپیل کی ہے جبکہ امریکہ نے بھی سفارتکاری پر زور دیا ہے۔ یہ واقعات دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں ایک نئی ترین تناؤ کی علامت ہیں، جو ماضی میں قریبی اتحادی رہے ہیں۔



