امریکہ کی کھلی غنڈہ گردی: وینزویلا پر بمباری اور صدر نکولس مادورو کی اغوا

محمد عمران (ویب ڈیسک) – نئے سال 2026 کا آغاز امریکی سامراجی جارحیت کی ایک نئی مثال سے ہوا ہے۔ 3 جنوری کو امریکی فورسز نے وینزویلا پر فضائی حملے کیے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر لیا۔ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور “کھلی غنڈہ گردی” کی ایک واضح مثال قرار دی جا رہی ہے، جو امریکہ کو ایک “گانگسٹر ریاست” کے طور پر مزید بے نقاب کرتی ہے۔وینزویلا کی حکومت اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، امریکی فورسز نے کاراکاس کے قریب متعدد اہداف پر بمباری کی، جس سے شہری علاقوں میں تباہی پھیل گئی اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسی دوران ایک خصوصی آپریشن میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا۔ امریکی محکمہ انصاف نے اسے “انصاف کی فراہمی” قرار دیا ہے، جبکہ مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک صدی پرانی امریکی مداخلت کی تسلسل ہے، جو لاطینی امریکہ میں خودمختار حکومتوں کو گرانے کی کوشش ہے۔کریس ہیجز کی رپورٹ میں اسے “امریکہ کی گانگسٹر ریاست” کی حیثیت کی تصدیق قرار دیا گیا ہے، جہاں تشدد کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ کاؤنٹر پنچ کی رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ 2026 کے لیے سامراجی تشدد کا ٹون سیٹ کر رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے یہ کارروائی ٹرمپ دور کی پالیسیوں کی پیروی میں کی ہے، جو وینزویلا کی معیشت کو کمزور کرنے اور حکومت تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔بین الاقوامی سطح پر اس کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ امریکن فرینڈز سروس کمیٹی (اے ایف ایس سی) نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لاطینی امریکہ میں امریکی سامراجیت کی نئی مثال ہے۔ فرینڈز کمیٹی آن نیشنل لیجسلیشن (ایف سی این ایل) نے بھی اس اغوا کی مذمت کی اور کہا کہ یہ وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ (ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس) نے لکھا ہے کہ یہ 2025 کی غزہ اور یوکرین جیسی جارحیتوں کا تسلسل ہے، جو نئے سال میں امریکی سامراج کی نئی جنگ کا اشارہ ہے۔کرنٹ افیئرز میگزین نے اسے “پوری دنیا پر حملہ” قرار دیا ہے، جہاں غیر ملکی سربراہان کو اغوا کر کے امریکی عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ گرین لیفٹ اور دیگر ذرائع نے بھی اسے سامراجی تشدد کی نئی لہر قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور پوسٹس میں اس کی تصدیق کی جا رہی ہے، جہاں کچھ لوگ اسے تشدد اور سیاسی انتشار کا باعث بتا رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے “انصاف” کا نام دے رہے ہیں۔وینزویلا کی حکومت نے اسے “کھلی جارحیت” قرار دے کر اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور لاطینی امریکہ میں نئی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔