امریکی حکام کا دعویٰ: روس ایران کو خفیہ انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے

محمد عمران (ویب ڈیسک):واشنگٹن (7 مارچ 2026) — جاری امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران ایک بڑی جیو پولیٹیکل پیچیدگی سامنے آئی ہے۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے جس سے تہران مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اثاثوں اور افواج کو نشانہ بنانے میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔واشنگٹن پوسٹ اور دیگر امریکی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق، متعدد امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا ہے کہ روس نے ایران کو امریکی جنگی جہازوں (warships)، طیاروں (aircraft)، اور دیگر فوجی تنصیبات کی لوکیشنز اور حرکات سے متعلق معلومات دی ہیں۔ یہ معلومات جنگ کے آغاز یعنی گزشتہ ہفتے سے فراہم کی جا رہی ہیں۔یہ پہلا موقع ہے جب ایک بڑی عالمی طاقت (روس) بالواسطہ طور پر اس جنگ میں ملوث ہونے کا اشارہ ملا ہے، جو امریکہ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ روس ایران کو یہ معلومات دینے کے بعد یہ نہیں بتاتا کہ ان کا استعمال کیسے کیا جائے، لیکن یہ انٹیلی جنس شیئرنگ ایرانی حملوں کی درستگی اور منصوبہ بندی کو بہتر بنا رہی ہے۔وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معلومات امریکی فوجی آپریشنز پر کوئی اثر نہیں ڈال رہی ہیں کیونکہ امریکہ ایران کے خلاف شدید بمباری جاری رکھے ہوئے ہے اور ایرانی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔دوسری جانب، روسی حکام نے اس الزام پر ابھی تک کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یہ خبر امریکہ-روس تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر جب ٹرمپ انتظامیہ ایران سے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کر رہی ہے۔یہ معاملہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کو مزید وسیع اور پیچیدہ بنا سکتا ہے، جہاں پہلے سے ہی شدید فضائی حملے، میزائل حملے اور معاشی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔



